مسلمانوں کا امریکہ ۔۔۔ پہلی قسط: امریکہ کے صوفی عمران صدیقی واشنگٹن July 11, 2008 مجھے دنیا کے مختلف ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔عموماًلوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا امریکہ میں مسلمان بستے ہیں؟ اگر ہاں، تو پھر، کیا وہ دوسرے مسلمانوں کی طرح ہی ہوتے ہیں؟ وہ کس طرح کے کپڑے پہنتے ہیں، وہ کس طرح نماز پڑھتے ہیں،اسلام کے کس مَسلک کو مانتے ہیں، وہ روزگار کس طرح کماتے ہیں؟ دوسری طرف، کچھ لوگوں کے نزدیک، اِس طرح کی سوچ ہی حیران کُن ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کے خلاف دنیا میں غلط تاثر پایا جاتا ہے، اور یہ تاثر اِس کےبرعکس بھی ہے۔ اب جب کہ میں امریکہ میں ہوں اِس لیے میری یہ کوشش ہوگی کہ اِن پیچیدہ سوالات کے جوابات معلوم کروں، اور یہی بات مجھے امریکی ریاست پینسلوینیا کے گَھنے جنگلوں میں چھپے ہوئے ایک پراسرار مقام کی طرف کھینچ کر لےجار رہی ہے۔
دوسری قسط میں گیارہ ستمبر 2001ء کے تنا ظر میں امریکی مسلمانوں کی جدوجہد کو پیش کیا گیا ہے۔بی ایم ایف ڈاٹ آرگ کے عبد الجبار ، مائیکل ٹومی کے خیال میں یہ جدوجہد دو طرح کی ہے۔پہلی بات تو یہ کہ امریکی مسلمان کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو استوار کر سکیں ۔ یہاں زیادہ تر وہ مسلمان آباد ہیں جِنہوں نے مسلمان کے گھر جنم لیا۔ یعنی مسلمان بننے کے لیے اُنہوں نے کوئی شعوری تگ و دو نہیں کی۔وہ اب اِس بات کو حسوس کرنے لگے ہیں کہ یہ نا کافی ہے۔ اِسی لیے وہ پہلی مرتبہ باقاعدہ قرآن شریف کو پڑھ اور سمجھ کر ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور عبادات کو سیکھ رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ یوں سمجھ لیں کہ امریکی مسلمان اصلی اسلام کو نئے سرے سے اختیار کر رہے ہیں۔دوسری طرف، گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد یہاں کے کچھ مسلمانوں کو چُپ سی لگ گئی ہے۔ باہر سے ایسا محسوس نہیں بھی ہوتا لیکن ایسے اشخاص کے اندر کا حال یہی ہے
Comments